Justuju Tv جستجو ٹی وی


کلیات منیف اشعر - رہروان رہگزار غزل خوش آمدید

Monday, April 20, 2009

ماجد خلیل ۔ رہگزار غزل ایک نظر میں



ماجدؔ خلیل


۔'رہگزارِ غزل' ایک نظر میں


غزل کے لغوی معنی تو تبدیل نہیں ہوئے، یعنی معشوق، یا محبوب کے ساتھ کھیلنا ۔۔ عورتوں کے ساتھ بات چیت کرنا۔۔عورتوں سے عشق کرنا، وغیرہ۔ مگر غزل بذاتِ خود یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ معاشی، معاشرتی، سیاسی، اخلاقی اُتارچڑھاؤ نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔


بساطِ عالم پر رونما ہونے والے حالات نے انسان کے اندازِ فکروعمل پراثرانداز ہوکر وہ انقلاب برپا کیا ہے جو مشاہدات و تجربات کی روشنی میں آج کی زندگی کے روزمرّہ سے بہت قریب ہے۔


شاعر بھی اسی معاشرہِ کا ایک اہم حصّہ ہے، جو اپنے شاعرانہ مزاج کی وجہ سےنسبتاً زیادہ حسّاس اور نازک طبع ہوتا ہے۔ اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کو اپنے اشعار کا ملبوس عطا کرتا ہے۔ اور جہاں جہاں ممکن ہے، استغاثہِ کا پیرایہ بھی اختیار کرتا ، اور حلّ ۔ مشکلات کی جانب واضح اشارے بھی دیتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو معاشرہِ کا حسّاس فرد ہونے سے مُنکر کہلائے گا۔ اس کارِ منصبی کی ادائیگی میں صاحبِ علم و مطالعہ شعراء روایت کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ البتّہ، کہیِں کہیِں اور کبھی کبھی اس سے روُگردانی بھی ہوجاتی ہے، جو اُسلوبِ بیان اور اندازِ تحریر کی خوبیوں کی بناء پر قابل توجّہ نہیں رہتی۔


مندرجہ بالا خیالات کی توثیق برادرم منیف اشعؔر کی تیسری غزلیہ تخلیق 'رہگزارِ غزل' سے ہوتی ہے۔ موصوف 'میرے بڑے بھائی، جناب حنیف اخگرؔ صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں'۔ میرا حنیف اخگرؔ بھائی سے خون کا رشتہ نہیں ہے۔ لیکن وہ دیرینہ رشتے، جو بے غرض محبّتوں کی عظیم بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں، وہ کبھی متزلزل نہیں ہوتے۔ یہ صرف محسوسات کی بات ہے، جس کا خُلاصہ الفاظ کی شکل میں ڈھالنا بہت سہل نہیں ہوتا۔


منیف اشعؔر کی دو کتابیں 'تلخ و شیریں'، اور 'رختِ زندگی' طبع ہوکر صاحبانِ ذوق سے داد و تحسین حاصل کرچکی ہیں۔ اور اب یہ تیسری کتاب 'رہگزارِ غزل' بھی انشااللہ ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔ اور اس مجموعۂ غزلیات کو قبولِ عام حاصل ہوگا۔


۔'رہگزارِ غزل' کی دستیاب غزلوں کے باالاستیعاب مطالعہ نے کہیں مایوس نہیں کیا۔ ویسے بھی اشعؔر کو زیادہ اشعار کہنے والا، یعنی زُودگو ہونا چاہیے، سو منیف صاحب ہیں۔ البتّہ یہ ضرور ہے کہ بقول اساتذہء کرام، زود روی [زود گوئی] کے سفر میں چند دُھندلے سائے بھی ہمسفر رہتے ہیں۔ سُو، دورانِ مطالعہ چند مقامات محل نظر بھی رہتے ہیں۔ مگر دورِ حاضر کےانداز شعرگوئی و شعر خوانی میں ایسے مقامات پر ٹھہرنا نہ اب آسان ہے نہ ہی اس کی زیادہ اہمیت ۔آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، اور ذہن و دل جو محسوس کرتے ہیں، ان کو ایک شاعر کے لیے شعر کا جامہ پہنادینا کافی ہے۔ البتّہ اس جامہ کی تراش وخراش ایک الگ فن ہے، جس کے لیے دقّتِ نظر، ذہنی مُشقّت درکار ہوتی ہے۔ منیف اشعؔر نے اپنی غزلوں میں ان تمام نکات کا بڑی حد تک خیال رکھا، اور ان پر عمل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر غزل کے اکثر اشعار یا مصرعے خیال آفریں اور اچھےلگے۔


موضوعاتی جہات کے لحاظ سے اشعار درج کرکے میں قاری کی پسند پر حاوی نہیں ہونا چاہتا۔ بہتر یہی ہے کہ 'رہگزارِ غزل' کا سکون سے مطالعہ کیا جائے، اور حسبِ توفیق مزاج لطف اندوز ہوا جائے۔ بہر حال، میں جن اشعار سے متأثّر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، ان کا اظہاررسماً ضروری ہے۔ سو وہ ذیل میں درج کرتا ہوں:۔



عطا ہوا ہے کچھ ایسا مجھے شعورِ سخن

کہ مجھ سے ہوگئی منسوب رہگزارِ غزل

٭

ہمیں جب سے ملا ہے آئینہ اک اپنے اندر

ہمارا واسطہ رہنے لگا خود آگہی سے

٭

تم اپنے اور سب رنگوں کو جانے دو، تمہیں تو

بس اک موجِ حیا نے ماہِ تاباں کردیا تھا

تری مرہون ہے اب تک سخن گوئی ہماری

تصوّر نے ترے ہم کو غزل خواں کردیا تھا

٭

دخل تھا عزمِ سفر کا بھی، مگر جانتے ہیں

وحشتِ شوق نے پہنچایا، جہاں تک پہنچے

٭

اب بھی وہ سمجھتا ہے کہ مرتا ہوں اسی پر

اس کو مرا پیمانِ وفا یاد ہے شاید

٭

ہمارے زخم ہیں گہرے مگر بڑے امکاں

تمہارے حَرفِ تَسلّیِ میں اندمال کے ہیں

٭

جہاں اشارۂ آمر ہی حرَفِ آخر ہو

کسی اگر کا وہاں یا مگر کا ذکر کہاں

٭

ہمیں پتہ ہے ثباتِ حیات کیا ہے کہ ہم

نظر میں اپنی ہوا و حباب رکھتے ہیں

٭

آنکھ تو ہر شخص رکھتا ہے مگر اس شہر میں

ایساکیوں لگنے لگا اہلِ نظر کوئی نہیں

٭


منیف اشعؔر لکھنؤ سے چل کر، کراچی سے سعودی عرب ہوتے ہوئے، اب کینیڈا میں مقیم ہیں۔ وہاں کے ادبی حلقوں میں بہت فعّال ہیں۔ وہاں ایک ادبی ادارہ 'بزمِ فانوس' بنا رکھا ہے، جس کے تحت ادبی محافل، خصوصاً مشاعروں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں، جن میں شمالی امریکا کے شعراء بھی شرکت کرتے ہیں۔


دعا گزار ہوں کہ 'رہگزارِ غزل' مقبولِ عام ہو۔


کراچی ۔


No comments:

Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for More Justuju Projects